Urdu

بچوں کو اولیت

 اسوقت نیو یارک شہر کا اسکولی نظام مستحکم ہے اور شہر کے طلبا نے تمام سطوح پر نمایاں تعلیمی پیش رفت کرنے کا آغاز کیا ہے،  میئر بلوم برگ Bloomberg)) اور چانسلر کلائین Klein)) نے شہر کے 1400 سے زائد تمام اسکولوں کو کامیاب اسکولوں میں تبدیل کرنے کے اپنی کوششوں کو بڑھا دیا ہے۔

 اصلاحات کے دوسرے مرحلے کی بیناد بھی وہی اصول ہیں جو کہ ابتدائی اصلاحات کے ہیں: قیادت، اضافی اختیار، اور جوابدہی۔

 

قیادت: ایک تنظیم کو کامیاب ہونے کے لیے ہر سطح پر عظیم قائدین کی ضرورت ہوتی ہے۔ حالانکہ ایک تنظیم کی ہر سطح پر قوی قائدین کا ہونا ضوروری ہے، تعلیم میں، پرنسپلز نہایت نازک قیادتی منصب رکھتے ہیں۔ یہ اسکول پر مبنی کلیدی فیصلے کرنے والے ہیں اور ان کو باخبر فیصلے کرنے اور ذہین خطرات مول لینے کے لیے اضافی اختیار دینا لازمی ہے۔ چانسلر پرنسپلز کی اہمیت کو جانتا ہے اور ایک ایسے نظام کی تخلیق کی جدوجہد کررہا ہے جس میں قیادت کو پروان چڑھایا جا سکے اور اس کی معاونت کی جا سکے۔

 

اضافی اختیار:2007-08  کے تعلیمی سال کے آغاز میں، محکمہ تعلیم DOE)) تمام پبلک اسکولوں کو اضافی اختیار دے رہا ہے، تاکہ تعلیمی فیصلہ سازی اسکول میں ہو، جہاں طلبا سے قریب تر رہنے والے لوگ یہ فیصلہ کریں گے کہ طالبِ علم کو کامیاب ہونے میں کیا مددگار ہوگا۔

 

پبلک اسکول کے اضافی اختیارات اسکولوں کے اضافی اختیارات کے آغاز کار پر استوار کرتے ہیں۔ گذشتہ سال، 2006-07 کے تعلیمی سال میں، نیو یارک شہر کے 332 پبلک اسکولوں نے فیصلہ سازی کے اعلٰی اختیار اور وسائل کے تبادلے میں نتائج کے لیے جوابدہی کو قبول کرنے کی ذمہ داری لی تھی۔ ان "اضافی اختیار والے اسکولوں" نے ناکامی کی صورت میں واضح نتائج کے ساتھ طلبا کی اعلٰی معیارات کی حصولیابی کے لیے پابند عہد ہو کر،  پیش رفت کے معاہدے کے تحت کام کیا تھا۔ اس پُرعظمی کے بدلے میں، پرنسپلز اور ان کی ٹیموں کو ان کے طلبا کی ضروریات کے مطابق تعلیمی حکمتِ عملیاں تشکیل دینے کی آزادی دی گئی تھی۔ ان اسکولوں نے معاونتی ٹیموں کا بذاتِ خود انتخاب کیا، تخلیقی اوقات کا نفاذ کیا، اضافی اساتذہ کو ملازمت پر رکھا، ضرورت کے مطابق تشخیصات کی تشکیل دی، پیشہ ورانہ فروغ میں سرمایہ کاری کی، اور اندرونی اور بیرونی دونوں خدمات خریدیں جو کہ ان کی اور ان کے طلبا کی ضروریات پر پوری اترتی ہیں۔ ابتدائی نتائج امید بندھانے والے تھے، اور پرنسپلز نے اس نئے نمونے کے ساتھ اعلٰی سطح کی تسلی کا اظہار کیا تھا۔

2007-08 کے تعلیمی سال کے آغاز میں، پرنسپلز اور ان کی ٹیمیں وسائل کی تعیناتی، ان کے عملے کے انتخاب اور ان کے طلبا کے لیے پروگرامز کی تخلیق پر وسیع صوابدید حاصل کر کے، تمام پبلک اسکول اضافی اختیار والے بن گئے تھے۔ محکمہ کے طلبا کے سرمائے کے نئے منصفانہ کلیے کی وجہ سے، اسکولوں نے وسائل میں بھی اضافہ کیا ہے، جو کہ سرمائے کی تعیناتی طلبا کی ضرورت کی بنیاد پر کرتا ہے۔

 

2007-08 کی ابتدا میں، پرنسپلوں نے اس معاونت کا انتخاب کیا تھا جو کہ ان کے لیے، ان کے عملے اور طلبا کے لیے بہترین تھی۔ پرنسپلز نے، اپنی اسکولی برادری کی مشاورت کے ساتھ، تین قسم کی اسکولی معاونتی تنظیموں میں سے انتخاب کیا تھا، جو نیو یارک شہر محکمہ تعلیم کی جانب سے ان کے لیے مقرر کیے گئے اعلٰی معیارات پر پورا اترنے کے لیے کام کرتے ہوئے اسکولوں کی معاونت کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہیں۔ اسکول تین اہم اسکولی معاونتی تنظیموں کی اقسام میں سے انتخاب کر سکتے ہیں:

 

·      اضافی اختیار کی معاونتی تنظیم

اضافی اختیار والے اسکولوں کی بنیاد اس بنیادی نظریے پر ہے کہ طلبا کو تعلیم کیسے دی جائے کے فیصلے جتنا ممکن ہو سکے طلبا کے قریب کام کرنے والوں کے ذریعہ کیے جانے چاہیئیں- پرنسپلز اسکولی برادری کی شراکت میں۔ ایسے کلیدی فیصلوں میں تعلیمی پروگرام اور نصاب پر وسیع اختیار، بجٹ پر اعلٰی صوابدید، پُرعظم ٹیم کے انتخاب اور تشخیص میں ایک نمایاں کردار جو کہ پرنسپلوں کی  اور اس فیصلے کے موقع کی معاونت کرے کہ پرنسپل اپنے اور اپنے عملے کی ضروریات کے مطابق کیسے پیشہ ورانہ فروغ چاہتے ہیں۔

 

Ÿ      تدریسی معاونتی تنظیمیں

تدریسی معانتی تنظیم LSO)) کے قائدین مخصوص موضوعات کے گرد معاونتی پیکج کی فراہمی کے لیے اساتذہ، پرنسپل اور اسکولی نظام کے قائدین کے بطور طویل اور مخصوص کامیابی کے ریکارڈز پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ پیکج پورے شہر میں بہترین طریقِ کار کو شامل کرتے ہیں۔ ان کی ٹیموں میں سابقہ علاقائی اور مرکزی دفاتر سے کئی تجربہ کار پیشہ ور شامل ہیں۔

ہر LSO میں امتیازی معاونتی پیشکشیں شامل ہوتی ہیں، جن کی توجہ کا مرکز ہدایات، پروگرامنگ، نظام الاوقات، نوجوانوں کی بہبود، اور پیشہ ورانہ فروغ شامل ہے۔ علاقائی حدود سے قطع نظر LSO پیکج شہر بھر کے اسکولوں کے لیے دستیاب ہیں اور خدماتی پیکج میں مختلف قسم کے اسکولوں کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امتیاز کیا گیا ہے۔

 

Ÿ        شراکتی معاونتی تنظیمیں

شراکتی معاونتی تنظیموں PSO)) کے گروپس محکمہ تعلیم کے باہر کام کرتے ہیں بشمول ثالثوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، اور برادری اور اسکولوں کی مختلف انداز میں، معاونت کرنے والے ثابت کردہ ریکارڈز کے ساتھ دیگر تنظیمیوں کے۔ ان میں سے ہر ایک تنظیم اس عمل کا استعمال کرنے کے لیے جو کہ شہر یا ملک میں کہیں اور کارآمد ہے اسکول کی قیادتی ٹیم کے ساتھ شامل  ہوگی۔

 

یہ تنظیمیں کئی ویسی ہی خدمات اور معاونتیں فراہم کرتی ہیں جو کہ، اب تک، محکمہ تعلیم کی جانب سے روش کے طور پر فراہم کی جاتی تھیں۔  علاقائی دفاتر کے ذریعے، محکمہ تعلیم نے اسکولوں کے نمائندے کے طور پر وسائل لگائے اور فیصلے کیے۔ مرکز اور علاقائی فیصلہ سازی نے یکساں حل کی جانب رہبری کی، حالانکہ ہمارے اسکولوں کی مخصوص ضروریات اور مسابقتیں ہیں۔ ایک بڑے نظام میں قابلیت کی تعمیر کرنے اور ربط و توافق لانے میں مؤثر، ایک ہی سائز سب کو پورا آئے گا کی پہنچ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے پُرعظمی کو بڑھاوا نہیں دیتی ہے۔

 

تمام اسکول اپنی معاونت کا انتخاب کرنے کا اختیار دیئے جانے کے باوجود نیو یارک شہر محکمہ تعلیم کی پالیسیوں اور دیگر قابلِ اطلاق قواعد اور ضوابط پر موقوف پبلک اسکول ہیں۔ اسکول، دیگر معاملات کے ساتھ، محکمہ تعلیم کی تقرری کی پالیسیوں، مالیاتی اطلاع دہی کے ضوابط، خاص تعلیم کے مطلوبات، مزدوروں کے معاہدوں، چانسلر کے ضوابط، اور جوابدہی کے معیارات کے لیے محکمہ تعلیم کی پابندی کریں گے جیسے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے متعین کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پرنسپلوں کو پرکھنے کے افسران اجتمائی اور ہائی اسکول کے مہتمم ہوں گے۔

 

جوابدہی:  اضافی اختیارات اور جوابدہی یکساں طور پرنسپلوں کو تقویت دیتے ہیں۔ پرنسپلوں کو فیصلہ سازی کے اختیار کی ضرورت ہے لیکن ان کو اہداف اونچے رکھنے ہوں گے اور ان کو نتائج کے لیے جوابدہ ہونے کی ضرورت ہو گی۔

 

اپریل 2006 میں چانسلر نے ایک جامعاتی جوابدہی آغازِکار کا آغاز کیا تھا۔ تمام اسکولوں نے "اسکولی ماحول" "کارکردگی" اور "پیشرفت" کی پیمائش کرتے ہوئے گریڈ A-F کے ساتھ پیش رفت کی رپورٹس موصول کی تھیں۔ تمام اسکول جائے وقوع پر تفصیلی معیار کے جائزے موصول کرتے ہیں۔ ایک اسکول کا "معیاری اسکور" اسکول کی پیش رفت کی رپورٹ میں اسکول کے گریڈ کے ساتھ ظاہر ہوگا۔  

ہمارے تمام طلبا کی کارکردگی اور مواخذہ وسائل کے لیے یہاں کلک کریں۔

 

2007-08 کے تعلیمی سال کے آغاز میں تمام اسکولوں کو " کارکردگی کی شرائط کے بیان" جس پر انہوں نے دستخط کیے تھے، پر پورا اترنے کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جارہا ہے۔ ان دستاویزات میں، انہوں نے مخصوص اہداف پر پورا اترنے کی اطاعت کا عہد کیا تھا جو کہ طلبا کو کافی تناسب میں پیشرفت کرنے میں مدد کریں گے۔

 

وہ اسکول جو کہ طلبا کو وہ تعلیم فراہم نہیں کررہے ہیں جس کی ان کو ضرورت ہے اور جس کے وہ حقدار ہیں، تو ان کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، جب کہ وہ اسکول جو کہ معیارات کی تکمیل یا ان سے تجاوز کر رہے ہیں انعامات موصول کریں گے۔



 اس صفحے کو انگریزی میں دیکھنے کے لیے، جس پر اضافی معلومات دستیاب ہوسکتی ہیں، یہاں کلک کریں۔